| پھول کِھل جائیں ، ہمیں روک لیں ، خوشبو بولے |
| کب اِسی دشت میں یوں عشق کا جادو بولے |
| ہم نے وعدے ہی سنے ہیں مگر اب تو گھر میں |
| کوئی کونپل ، کوئی ٹہنی ، کوئی جگنو بولے |
| روز چہروں پہ نئے دکھ بھی لکھے ملتے ہیں |
| لوگ تو کچھ نہ کہیں ، آنکھ کا آنسو بولے |
| تیز ہو حرف کی لَو ، گیت کی لَے اور بڑھے |
| ابھی بستی میں اُداسی ہے جو ہر سُو بولے |
| کوئی جھونکا ، کوئی پنچھی ، کوئی پتا ہی سہی |
| کوئی آ کر مرے گھر میں کسی پہلو بولے |
| بے خبر تھی سو کہانی اسی عالم میں لکھی |
| مجھے معلوم نہ تھا حرف بھی یاھُو بولے |
| پھول کِھل جائیں ، ہمیں روک لیں ، خوشبو بولے |
| کب اِسی دشت میں یوں عشق کا جادو بولے |
| ہم نے وعدے ہی سنے ہیں مگر اب تو گھر میں |
| کوئی کونپل ، کوئی ٹہنی ، کوئی جگنو بولے |
| روز چہروں پہ نئے دکھ بھی لکھے ملتے ہیں |
| لوگ تو کچھ نہ کہیں ، آنکھ کا آنسو بولے |
| تیز ہو حرف کی لَو ، گیت کی لَے اور بڑھے |
| ابھی بستی میں اُداسی ہے جو ہر سُو بولے |
| کوئی جھونکا ، کوئی پنچھی ، کوئی پتا ہی سہی |
| کوئی آ کر مرے گھر میں کسی پہلو بولے |
| بے خبر تھی سو کہانی اسی عالم میں لکھی |
| مجھے معلوم نہ تھا حرف بھی یاھُو بولے |
