| لوگو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| ہیرے موتی ، لال جواہر رولے بھر بھر تھالی | |
| اپنا کیسہ ، اپنا دامن ، اپنی جھولی خالی | |
| اپنا کاسہ ، اپنا پارہ پارہ اپنا گریباں چاک | |
| چاک گریباں والے لوگو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| کانٹوں سے تلوے زخمی ہیں ، روح تھکن سے چور | |
| کوچے کوچے خوشبو بکھری اپنے گھر سے دُور | |
| اپنا آنگن سونا سونا ، اپنا دل ویران | |
| پھولوں کلیوں کے رکھوالو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| طوفانوں سے ٹکر لے لی جب تھامے پتوار | |
| پیار کے ناتے جس کشتی کے لاکھوں کھیون ہار | |
| ساحل ساحل شہر بسائے ساگر ساگر دُھوم | |
| اپنی نگری بھولے مانجھی! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| آنکھوں کرنیں ، ماتھے سورج اور کٹیا اندھیاری | |
| کیسے لکھ لٹ راجا ہو تم ، سمجھیں لوگ بھکاری | |
| شیشہ سچا اُجالا جب تک اونچا اس کا بھاؤ | |
| اپنا مول نہ جاناتم نے ، تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| جن کھیتوں کا رنگ نکھارے جلتی تپتی دُھوپ | |
| ساون کی پھواریں بھی چاہے ان کھیتوں کا رُوپ | |
| تم کو کیا گھاٹا دل والو! | |
| تم جو سچے ہو ، گن والے ہو! | |
| (۱۹۶۶ء) | |
| لوگو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| ہیرے موتی ، لال جواہر رولے بھر بھر تھالی | |
| اپنا کیسہ ، اپنا دامن ، اپنی جھولی خالی | |
| اپنا کاسہ ، اپنا پارہ پارہ اپنا گریباں چاک | |
| چاک گریباں والے لوگو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| کانٹوں سے تلوے زخمی ہیں ، روح تھکن سے چور | |
| کوچے کوچے خوشبو بکھری اپنے گھر سے دُور | |
| اپنا آنگن سونا سونا ، اپنا دل ویران | |
| پھولوں کلیوں کے رکھوالو! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| طوفانوں سے ٹکر لے لی جب تھامے پتوار | |
| پیار کے ناتے جس کشتی کے لاکھوں کھیون ہار | |
| ساحل ساحل شہر بسائے ساگر ساگر دُھوم | |
| اپنی نگری بھولے مانجھی! تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| آنکھوں کرنیں ، ماتھے سورج اور کٹیا اندھیاری | |
| کیسے لکھ لٹ راجا ہو تم ، سمجھیں لوگ بھکاری | |
| شیشہ سچا اُجالا جب تک اونچا اس کا بھاؤ | |
| اپنا مول نہ جاناتم نے ، تم کیسے گن والے ہو؟ | |
| جن کھیتوں کا رنگ نکھارے جلتی تپتی دُھوپ | |
| ساون کی پھواریں بھی چاہے ان کھیتوں کا رُوپ | |
| تم کو کیا گھاٹا دل والو! | |
| تم جو سچے ہو ، گن والے ہو! | |
| (۱۹۶۶ء) | |
