| ناز اُٹھے کب دیدۂ تر کے |
| ہنس ہنس کر کھائے ہیں چرکے |
| رات نے تم کو لوٹا ہوگا |
| ہم نے دھو کے کھائے سحر کے |
| ٹوٹی مالا کون سمیٹے |
| بکھرے سپنے جیون بھر کے |
| کس کو خبر تھی ہنستے ہنستے |
| راز کھلیں گے دیدۂ تر کے |
| (۱۹۵۶ء) |
| ناز اُٹھے کب دیدۂ تر کے |
| ہنس ہنس کر کھائے ہیں چرکے |
| رات نے تم کو لوٹا ہوگا |
| ہم نے دھو کے کھائے سحر کے |
| ٹوٹی مالا کون سمیٹے |
| بکھرے سپنے جیون بھر کے |
| کس کو خبر تھی ہنستے ہنستے |
| راز کھلیں گے دیدۂ تر کے |
| (۱۹۵۶ء) |
