| بیٹھے ہوئے ایک ایک کا منھ دیکھ رہے ہیں |
| کہتے پھریں کس کس سے جو دُکھ ہم نے سہے ہیں |
| جی کوتو وہ اچھے لگے ، پر اُن کی عنایت |
| دُکھ ان سے بھلے ہیں کہ مرے ساتھ رہے ہیں |
| کب تم سے گلہ ہم نے کیا کم نگہی کا |
| ہاں دیکھنے والوں نے فسانے سے کہے ہیں |
| ہنسنے سے بھی سنتے ہیں کہ بھر آتی ہیں آنکھیں |
| اشکوں پہ نہ جاؤ کہ بہرحال بہے ہیں |
| پھولوں کے کٹوروں سے جہاں چھلکی ہے شبنم |
| کانٹوں کے بھی آنسو اسی مٹی پہ بہے ہیں |
| سوچوں کے خزانوں پہ بھی ناگوں کا ہے پہرا |
| دل چیز ہی کیا ہے یہاں کعبے بھی ڈھہے ہیں |
| پوجو کہ تغافل کرو دُنیا ہے یہ لوگو |
| چڑھتے ہوئے سورج یہاں پل بھر میں گہے ہیں |
| (۱۹۶۶ء) |
| بیٹھے ہوئے ایک ایک کا منھ دیکھ رہے ہیں |
| کہتے پھریں کس کس سے جو دُکھ ہم نے سہے ہیں |
| جی کوتو وہ اچھے لگے ، پر اُن کی عنایت |
| دُکھ ان سے بھلے ہیں کہ مرے ساتھ رہے ہیں |
| کب تم سے گلہ ہم نے کیا کم نگہی کا |
| ہاں دیکھنے والوں نے فسانے سے کہے ہیں |
| ہنسنے سے بھی سنتے ہیں کہ بھر آتی ہیں آنکھیں |
| اشکوں پہ نہ جاؤ کہ بہرحال بہے ہیں |
| پھولوں کے کٹوروں سے جہاں چھلکی ہے شبنم |
| کانٹوں کے بھی آنسو اسی مٹی پہ بہے ہیں |
| سوچوں کے خزانوں پہ بھی ناگوں کا ہے پہرا |
| دل چیز ہی کیا ہے یہاں کعبے بھی ڈھہے ہیں |
| پوجو کہ تغافل کرو دُنیا ہے یہ لوگو |
| چڑھتے ہوئے سورج یہاں پل بھر میں گہے ہیں |
| (۱۹۶۶ء) |
