یہ کس کی راہ گزر میں دیے جائے ہیں
یہ کیوں مژہ پہ ستارے سے جھلملائے ہیں
بجھا بجھا کے چراغ وفا جلائے ہیں
خطا معاف، سمجھ کر فریب کھائے ہیں
ادا ادا نے چلائے ہیں بے دھڑک نشتر
سنبھل سنبھل کے نگاہوں نے زخم کھائے ہیں
جنھیں نصیب تری کم نگاہیاں بھی نہیں
وہ کم نصیب ابھی آسرا لگائے ہیں
فریبِ ہوش کی دیوانہ سازیاں توبہ
بقدرِ حدّ ِ جنوں حوصلے بڑھائے ہیں
بھٹک بھٹک کے پہنچ ہی رہیں گے منزل تک
نشانِ راہ سے بچ کر قدم اُٹھائے ہیں
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
مری نہ پوچھ کہ طوفاں کے ناز اُٹھائے ہیں
خدا نکردہ کچھ احسانِ برق و باد نہیں
ہم آرزوئے نشیمن پہ مسکرائے ہیں
بہار ریز اُفق پر دُھواں دُھواں کیسا
چمن کی خیر یہ کس آرزو کے سائے ہیں
فروغِ حسنِ نظر دیکھ کر رہا نہ گیا
کہا ں پہنچ کے اداؔ پاؤں لڑکھڑائے ہیں
یہ کس کی راہ گزر میں دیے جائے ہیں
یہ کیوں مژہ پہ ستارے سے جھلملائے ہیں
بجھا بجھا کے چراغ وفا جلائے ہیں
خطا معاف، سمجھ کر فریب کھائے ہیں
ادا ادا نے چلائے ہیں بے دھڑک نشتر
سنبھل سنبھل کے نگاہوں نے زخم کھائے ہیں
جنھیں نصیب تری کم نگاہیاں بھی نہیں
وہ کم نصیب ابھی آسرا لگائے ہیں
فریبِ ہوش کی دیوانہ سازیاں توبہ
بقدرِ حدّ ِ جنوں حوصلے بڑھائے ہیں
بھٹک بھٹک کے پہنچ ہی رہیں گے منزل تک
نشانِ راہ سے بچ کر قدم اُٹھائے ہیں
وہ اور ہوں گے کنارے سے دیکھنے والے
مری نہ پوچھ کہ طوفاں کے ناز اُٹھائے ہیں
خدا نکردہ کچھ احسانِ برق و باد نہیں
ہم آرزوئے نشیمن پہ مسکرائے ہیں
بہار ریز اُفق پر دُھواں دُھواں کیسا
چمن کی خیر یہ کس آرزو کے سائے ہیں
فروغِ حسنِ نظر دیکھ کر رہا نہ گیا
کہا ں پہنچ کے اداؔ پاؤں لڑکھڑائے ہیں
یہ کس کی راہ گزر میں دیے جلائے ہیں
This website uses cookies to improve your experience. By using this website you agree to our Data Protection & Privacy Policy.
Read more