| جواک نگاہِ فسوں کار پر گیا ہوگا |
| تری نگاہ کے قرباں، کدھر گیا ہوگا |
| یہ اُجڑا اُجڑا چمن، یہ لُٹا لُٹا سا سنگھار |
| تمھیں کہو کسے برباد کر گیا ہوگا! |
| مرا چراغ مری تیرگی مٹا نہ سکے |
| تمھارے گھر میں اُجالا تو کر گیا ہوگا |
| اُجڑنے والوں سے ویرانیوں کا حال نہ پوچھ |
| غرورِ حسنِ تماشا سنور گیا ہوگا |
| ہزار بار سنوارا جسے نگاہوں نے |
| ہزار بار وہ نغمہ بکھر گیا ہوگا! |
| تو میرے شوق کی حیراں نگاہیوں پہ نہ جا |
| وہ با خبر ہے جویوں بے خبر گیا ہوگا |
| اُترنے والے بھلا پار کیا اُتر سکتے |
| نگاہِ ناز کا احسان دھر گیا ہوگا |
| جواک نگاہِ خرد آزما پہ مر نہ مٹا |
| وہ جینے والا بڑا نام کر گیا ہوگا |
| شعورِ ناز کا الزامِ دل فریب اداؔ |
| نہ جانے کس کی تمنا کے سر گیا ہوگا |
| جواک نگاہِ فسوں کار پر گیا ہوگا |
| تری نگاہ کے قرباں، کدھر گیا ہوگا |
| یہ اُجڑا اُجڑا چمن، یہ لُٹا لُٹا سا سنگھار |
| تمھیں کہو کسے برباد کر گیا ہوگا! |
| مرا چراغ مری تیرگی مٹا نہ سکے |
| تمھارے گھر میں اُجالا تو کر گیا ہوگا |
| اُجڑنے والوں سے ویرانیوں کا حال نہ پوچھ |
| غرورِ حسنِ تماشا سنور گیا ہوگا |
| ہزار بار سنوارا جسے نگاہوں نے |
| ہزار بار وہ نغمہ بکھر گیا ہوگا! |
| تو میرے شوق کی حیراں نگاہیوں پہ نہ جا |
| وہ با خبر ہے جویوں بے خبر گیا ہوگا |
| اُترنے والے بھلا پار کیا اُتر سکتے |
| نگاہِ ناز کا احسان دھر گیا ہوگا |
| جواک نگاہِ خرد آزما پہ مر نہ مٹا |
| وہ جینے والا بڑا نام کر گیا ہوگا |
| شعورِ ناز کا الزامِ دل فریب اداؔ |
| نہ جانے کس کی تمنا کے سر گیا ہوگا |
