| کس کس نے ساتھ چھوڑ دیا دُھوپ چھاؤں میں |
| ذکر ِ وفا نہیں ہے ہماری خطاؤں میں |
| موجِ ہوا بھی ریت کی دیوار بن گئی |
| ہم نے خدا تلاش کیا ناخداؤں میں |
| شاید ادھر سے قافلۂ رنگ و بو گیا |
| خوشبو کی سسکیاں ہیں ابھی تک ہواؤں میں |
| اب کے صبا کی نرم مزاجی کو کیا ہوا |
| بکھرے پڑے ہیں تازہ شگوفے ہواؤں میں |
| مقدور بھر جو راہ کا پتھر بنے رہے |
| وہ لوگ یاد آئے ہیں اکثر دُعاؤں میں |
| ویرانیاں دلوں کی بھی کچھ کم نہ تھیں اداؔ |
| کیا ڈھونڈنے گئے ہیں مسافر خلاؤں میں |
| کس کس نے ساتھ چھوڑ دیا دُھوپ چھاؤں میں |
| ذکر ِ وفا نہیں ہے ہماری خطاؤں میں |
| موجِ ہوا بھی ریت کی دیوار بن گئی |
| ہم نے خدا تلاش کیا ناخداؤں میں |
| شاید ادھر سے قافلۂ رنگ و بو گیا |
| خوشبو کی سسکیاں ہیں ابھی تک ہواؤں میں |
| اب کے صبا کی نرم مزاجی کو کیا ہوا |
| بکھرے پڑے ہیں تازہ شگوفے ہواؤں میں |
| مقدور بھر جو راہ کا پتھر بنے رہے |
| وہ لوگ یاد آئے ہیں اکثر دُعاؤں میں |
| ویرانیاں دلوں کی بھی کچھ کم نہ تھیں اداؔ |
| کیا ڈھونڈنے گئے ہیں مسافر خلاؤں میں |
