| مزاج و مرتبۂ چشم ِنم کو پہچانے |
| جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے |
| ملا ہے درد ہمیں درد آشنا کی طرح |
| بھلا ہوا کہ خلوصِ کرم کو پہچانے |
| ہزار کوس نگاہوں سے دل کی منزل تک |
| کوئی قریب سے دیکھے تو ہم کو پہچانے |
| یہ خود فریب اُجالے ، یہ ہاتھ ہاتھ دیے |
| دیے بجھاؤ کہ انسان غم کو پہچانے |
| بہت دنوں تو ہواؤں کا ہم نے رُخ دیکھا |
| بڑے دنوں میں متاع قلم کو پہچانے |
| (۱۹۶۸ء) |
| مزاج و مرتبۂ چشم ِنم کو پہچانے |
| جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے |
| ملا ہے درد ہمیں درد آشنا کی طرح |
| بھلا ہوا کہ خلوصِ کرم کو پہچانے |
| ہزار کوس نگاہوں سے دل کی منزل تک |
| کوئی قریب سے دیکھے تو ہم کو پہچانے |
| یہ خود فریب اُجالے ، یہ ہاتھ ہاتھ دیے |
| دیے بجھاؤ کہ انسان غم کو پہچانے |
| بہت دنوں تو ہواؤں کا ہم نے رُخ دیکھا |
| بڑے دنوں میں متاع قلم کو پہچانے |
| (۱۹۶۸ء) |
