| وہ روپ تو پلکوں اوٹ رہا | ||
| جس روپ کے ہم دیوانے تھے | ||
| تم سپنا بھی ، تم چاہت بھی | ||
| پر تم کو کہاں پہچانے تھے | ||
| جس نگری دیپ سنگھا سن تھا | ||
| ان رستوں پہرا ناگوں تھا | ||
| جو جیون بھر ہلکان ہوئیں | ||
| بیرن بھی وہی دو نیناں تھیں | ||
| میں آپ اپنی دیوار بنی | ||
| میں نیناں آگے ہار گئی | ||
| (۱۹۷۳ء) | ||
| وہ روپ تو پلکوں اوٹ رہا | ||
| جس روپ کے ہم دیوانے تھے | ||
| تم سپنا بھی ، تم چاہت بھی | ||
| پر تم کو کہاں پہچانے تھے | ||
| جس نگری دیپ سنگھا سن تھا | ||
| ان رستوں پہرا ناگوں تھا | ||
| جو جیون بھر ہلکان ہوئیں | ||
| بیرن بھی وہی دو نیناں تھیں | ||
| میں آپ اپنی دیوار بنی | ||
| میں نیناں آگے ہار گئی | ||
| (۱۹۷۳ء) | ||
