| غنچوں کا سنگھار ہو رہا ہے |
| سامانِ بہار ہو رہا ہے |
| جھونکے یہ ہوا کے بھیگے بھیگے |
| کیا کیا نہ اُمنگ جی میں اُٹھے |
| کلیاں جو ادا سے پھوٹتی ہیں |
| جینے کی اُمیدیں ٹوٹتی ہیں |
| پھولوں سے لدی ہوئی ہیں شاخیں |
| آنکھوں میں کھٹک رہی ہیں شاخیں |
| بھونرے سے سکھی یہ کوئی کہہ دے |
| گاگا کے کسی کو کیوں ستائے ! |
| لو چھائیں گھٹائیں اُودی اُودی |
| زلفیں وہ کسی کی بکھری بکھری! |
| پروا سے کوئی یہ جا کے پوچھے |
| خوش بو یہ چرائی ہے کہاں سے |
| آتے ہیں اُمنڈ کے کالے بادل |
| (پھیلا ہوا انکھڑیوں کا کاجل) |
| جنگل میں چمک رہی ہے بجلی |
| دل بن کے دھڑک رہی ہے بجلی |
| سبزہ یہ بگڑ کے بن رہا ہے |
| یا روٹھ کے کوئی من رہا ہے |
| پھولوں پہ یہ تتلیاں کہاں ہیں |
| یادیں کچھ ہیں کہ پرفشاں ہیں |
| غنچوں کا سنگھار ہو رہا ہے |
| سامانِ بہار ہو رہا ہے |
| جھونکے یہ ہوا کے بھیگے بھیگے |
| کیا کیا نہ اُمنگ جی میں اُٹھے |
| کلیاں جو ادا سے پھوٹتی ہیں |
| جینے کی اُمیدیں ٹوٹتی ہیں |
| پھولوں سے لدی ہوئی ہیں شاخیں |
| آنکھوں میں کھٹک رہی ہیں شاخیں |
| بھونرے سے سکھی یہ کوئی کہہ دے |
| گاگا کے کسی کو کیوں ستائے ! |
| لو چھائیں گھٹائیں اُودی اُودی |
| زلفیں وہ کسی کی بکھری بکھری! |
| پروا سے کوئی یہ جا کے پوچھے |
| خوش بو یہ چرائی ہے کہاں سے |
| آتے ہیں اُمنڈ کے کالے بادل |
| (پھیلا ہوا انکھڑیوں کا کاجل) |
| جنگل میں چمک رہی ہے بجلی |
| دل بن کے دھڑک رہی ہے بجلی |
| سبزہ یہ بگڑ کے بن رہا ہے |
| یا روٹھ کے کوئی من رہا ہے |
| پھولوں پہ یہ تتلیاں کہاں ہیں |
| یادیں کچھ ہیں کہ پرفشاں ہیں |
