| اِدھر دیکھ یہ ریشمیں، مرمریں، نرم بانہیں |
| یہ کلیوں کے گجرے، یہ حسنِ شبستاں |
| لچیلی، رسیلی، حسیں مسکراتی ہوئی شوخ کلیوں کے گجرے |
| یہ حسنِ فروغِ جمالِ شبستاں |
| یہ مرکز تری آرزوئے جواں کا |
| یہ حاصل تری زحمتِ جاوداں کا |
| تری سینہ کو بیِ پہیم کا، دردِنہاں کا |
| یہ قوسِ قزح کی چُرائی ہوئی شوخ رنگت |
| یہ پھولوں کی نرمی، یہ کلیوں کی نزہت |
| ستاروں کی شوخی، بہاروں کی فطرت |
| یہ جاتی ہوئی کہکشاں کو سبک گام راہیں |
| یہ بے چین ہیں امتحاں کو |
| یہی ریشمیں نرم بانہیں |
| فروغ شبستاں سے اب پھیر بھی لے نگاہیں |
| یہ مانا کہ چشم ِ فلک نے نہ اب تک جھلک دیکھ پائی |
| مباداپڑے بال اِن آئنوں میں |
| نہ زخمِ نگہ آنے پائے |
| مگر اب ذرا آزما ان کی ہمت |
| یہ مدت سے بے چین ہیں امتحاں کو |
| تری تیرہ بختی، تری بے نوائی |
| ترے اشکِ پہیم، تری آہِ سوزاں |
| ترے درد کا اب بھی ممکن ہے درماں |
| تجھے جس سہارے کی ہے جستجومدتوں سے |
| زفیض ِ تمنّا ابھی مل بھی جائے |
| بہت ہے کہ اب تک جواں ہیں ارادے |
| ذرا حوصلے دیکھ ان کے |
| یہی ریشمیں، مخملیں، مرمریں، نرم بانہیں |
| جوچاہیں |
| اُٹھا کر پٹک دیں زمین وزماں کو |
| ترے آسماں کو |
| ترے آسمانوں کے راز نہاں کو |
| یہ حسنِ فروغِ جمالِ شبستاں |
| اِدھر دیکھ یہ ریشمیں، مرمریں، نرم بانہیں |
| یہ کلیوں کے گجرے، یہ حسنِ شبستاں |
| لچیلی، رسیلی، حسیں مسکراتی ہوئی شوخ کلیوں کے گجرے |
| یہ حسنِ فروغِ جمالِ شبستاں |
| یہ مرکز تری آرزوئے جواں کا |
| یہ حاصل تری زحمتِ جاوداں کا |
| تری سینہ کو بیِ پہیم کا، دردِنہاں کا |
| یہ قوسِ قزح کی چُرائی ہوئی شوخ رنگت |
| یہ پھولوں کی نرمی، یہ کلیوں کی نزہت |
| ستاروں کی شوخی، بہاروں کی فطرت |
| یہ جاتی ہوئی کہکشاں کو سبک گام راہیں |
| یہ بے چین ہیں امتحاں کو |
| یہی ریشمیں نرم بانہیں |
| فروغ شبستاں سے اب پھیر بھی لے نگاہیں |
| یہ مانا کہ چشم ِ فلک نے نہ اب تک جھلک دیکھ پائی |
| مباداپڑے بال اِن آئنوں میں |
| نہ زخمِ نگہ آنے پائے |
| مگر اب ذرا آزما ان کی ہمت |
| یہ مدت سے بے چین ہیں امتحاں کو |
| تری تیرہ بختی، تری بے نوائی |
| ترے اشکِ پہیم، تری آہِ سوزاں |
| ترے درد کا اب بھی ممکن ہے درماں |
| تجھے جس سہارے کی ہے جستجومدتوں سے |
| زفیض ِ تمنّا ابھی مل بھی جائے |
| بہت ہے کہ اب تک جواں ہیں ارادے |
| ذرا حوصلے دیکھ ان کے |
| یہی ریشمیں، مخملیں، مرمریں، نرم بانہیں |
| جوچاہیں |
| اُٹھا کر پٹک دیں زمین وزماں کو |
| ترے آسماں کو |
| ترے آسمانوں کے راز نہاں کو |
| یہ حسنِ فروغِ جمالِ شبستاں |
