| یہ بہاروں کے سجیلے سپنے |
| یہ شگوفے، یہ لجیلے سپنے |
| مسکرائے تو حیا ٹوٹ پڑی |
| کسمسائیتو ادا پھوٹ پڑی |
| ان کے مکھڑے کی جنوں خیز تپک |
| ان کے لہجے کی فسوں ساز کھنک |
| ان کی معصوم نگاہوں کی جھجک |
| یہ نزاکت ، یہ لگاوٹ، یہ پھبن |
| یہ نہائے ہوئے شبنم میں بدن |
| آج سے پہلے نہ پہچان سکی |
| آج سے پہلے نہ کیوں جان سکی |
| آج سے پہلے بھی پھوٹے ہوں گے |
| یہ شگوفے ، یہ لجیلے سپنے |
| یہ بہاروں کے سجیلے سپنے |
| اسی شوخی، اسی رعنائی سے |
| یہی لہجہ، یہی لہجے کی کھنک |
| یہ سجاوٹ ، یہ سجاوٹ کی جھمک |
| یہ نگاہیں، یہ نگاہوں کی جھجک |
| اسی معصومی و برنائی سے |
| شکوہ بیگانہ نگاہی کا لیے |
| شاخ میں پہلے بھی پھوٹے ہوں گے |
| یہ شگوفے، یہ لجیلے سپنے |
| یہ بہاروں کے سجیلے سپنے |
| یہ شگوفے، یہ لجیلے سپنے |
| مسکرائے تو حیا ٹوٹ پڑی |
| کسمسائیتو ادا پھوٹ پڑی |
| ان کے مکھڑے کی جنوں خیز تپک |
| ان کے لہجے کی فسوں ساز کھنک |
| ان کی معصوم نگاہوں کی جھجک |
| یہ نزاکت ، یہ لگاوٹ، یہ پھبن |
| یہ نہائے ہوئے شبنم میں بدن |
| آج سے پہلے نہ پہچان سکی |
| آج سے پہلے نہ کیوں جان سکی |
| آج سے پہلے بھی پھوٹے ہوں گے |
| یہ شگوفے ، یہ لجیلے سپنے |
| یہ بہاروں کے سجیلے سپنے |
| اسی شوخی، اسی رعنائی سے |
| یہی لہجہ، یہی لہجے کی کھنک |
| یہ سجاوٹ ، یہ سجاوٹ کی جھمک |
| یہ نگاہیں، یہ نگاہوں کی جھجک |
| اسی معصومی و برنائی سے |
| شکوہ بیگانہ نگاہی کا لیے |
| شاخ میں پہلے بھی پھوٹے ہوں گے |
| یہ شگوفے، یہ لجیلے سپنے |
