| دیکھ لیں میرے شہیدوں کا لہو ہے اس میں |
| ہے پیالہ تو مگر جامِ مےِ ناب نہیں |
| میرے سورج کو چرالیں یہ مجال ان کی کہاں |
| یہ مرا دل ہے کوئی گوہرِ شب تاب نہیں |
| (۱۹۶۶ء) |
| دیکھ لیں میرے شہیدوں کا لہو ہے اس میں |
| ہے پیالہ تو مگر جامِ مےِ ناب نہیں |
| میرے سورج کو چرالیں یہ مجال ان کی کہاں |
| یہ مرا دل ہے کوئی گوہرِ شب تاب نہیں |
| (۱۹۶۶ء) |
