| دل پر یہ احسان کروں یا رہنے دوں |
| انگارے آنچل میں لوں یا رہنے دوں |
| پہلے بھی تو دیواروں سے باتیں کی ہیں |
| کھل کر جی کی بات کہوں یا رہنے دوں |
| کالی راتیں اتنی کالی کیوں ہوتی ہیں |
| آخر آخر پوچھ ہی لوں یا رہنے دوں |
| ہر موسم ہی اک موسم کا وعدہ ہے |
| لمحوں کو زنجیر کروں یا رہنے دوں |
| اک جیون میں کتنے جیون جھیلے ہیں |
| پل بھر اپنے پاس رُکوں یا رہنے دوں |
| آج کے غم بھی آخراک سچائی ہیں |
| سچے دن کی چاپ سنوں یا رہنے دوں |
| پھر کیا ہوگی رستوں کی پہچان اداؔ |
| جھولی میں سب خارچنوں یا رہنے دوں |
| دل پر یہ احسان کروں یا رہنے دوں |
| انگارے آنچل میں لوں یا رہنے دوں |
| پہلے بھی تو دیواروں سے باتیں کی ہیں |
| کھل کر جی کی بات کہوں یا رہنے دوں |
| کالی راتیں اتنی کالی کیوں ہوتی ہیں |
| آخر آخر پوچھ ہی لوں یا رہنے دوں |
| ہر موسم ہی اک موسم کا وعدہ ہے |
| لمحوں کو زنجیر کروں یا رہنے دوں |
| اک جیون میں کتنے جیون جھیلے ہیں |
| پل بھر اپنے پاس رُکوں یا رہنے دوں |
| آج کے غم بھی آخراک سچائی ہیں |
| سچے دن کی چاپ سنوں یا رہنے دوں |
| پھر کیا ہوگی رستوں کی پہچان اداؔ |
| جھولی میں سب خارچنوں یا رہنے دوں |
