| جیسے دریا کنارے |
| کوئی تشنہ لب |
| آج میرے خدا |
| میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں |
| میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب |
| میری آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے |
| میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے |
| جو فقط لوحِ جاں پر لکھے رہ گئے! |
| جیسے دریا کنارے |
| کوئی تشنہ لب |
| آج میرے خدا |
| میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں |
| میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب |
| میری آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے |
| میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے |
| جو فقط لوحِ جاں پر لکھے رہ گئے! |
