| مدتوں بعد آئی ہو تم |
| اور تمھیں اتنی فرصت کہاں |
| اَن کہے حرف بھی سن سکو |
| آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو |
| جوابھی تک لکھی ہی نہیں جاسکی |
| اتنی مہلت کہاں |
| میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی |
| اُن شگوفوں کی باتیں کرو |
| درد ہی بانٹ لو |
| میرے کن ماہتابوں سے تم مل سکیں |
| کتنی آنکھوں کے خوابوں سے تم مل سکیں |
| ہاں تمھاری نگاہِ ستائش نے |
| گھر کی سب آرائشیں دیکھ لیں |
| تن کی آسائشیں دیکھ لیں |
| میرے دل میں جو پیکاں ترازو ہوئے |
| تم کو بھی |
| لالہ و گل کے بے ساختہ استعارے لگے! |
| مدتوں بعد آئی ہو تم |
| اور تمھیں اتنی فرصت کہاں |
| اَن کہے حرف بھی سن سکو |
| آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو |
| جوابھی تک لکھی ہی نہیں جاسکی |
| اتنی مہلت کہاں |
| میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی |
| اُن شگوفوں کی باتیں کرو |
| درد ہی بانٹ لو |
| میرے کن ماہتابوں سے تم مل سکیں |
| کتنی آنکھوں کے خوابوں سے تم مل سکیں |
| ہاں تمھاری نگاہِ ستائش نے |
| گھر کی سب آرائشیں دیکھ لیں |
| تن کی آسائشیں دیکھ لیں |
| میرے دل میں جو پیکاں ترازو ہوئے |
| تم کو بھی |
| لالہ و گل کے بے ساختہ استعارے لگے! |
