| گُلوں کو چُھو کے شمیمِ دعا نہیں آئی |
| کھلا ہواتھا دریچہ ، صبا نہیں آئی |
| ہوائے دشت! ابھی تو جنوں کا موسم تھا |
| کہاں تھے ہم ، تری آواز پا نہیں آئی |
| ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا |
| ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی |
| ہم اتنی دُور کہاں تھے کہ پھر پلٹ نہ سکیں |
| سوادِ شہر سے کوئی صدا نہیں آئی |
| سنا ہے دل بھی نگر تھا ، رسا بسا بھی تھا |
| جلا تو آنچ بھی ، اہلِ وفا نہیں آئی |
| نہ جانے قافلے گزرے کہ ہے قیام ابھی |
| ابھی چراغ بجھانے ہوا نہیں آئی |
| بس ایک بار منایا تھا جشنِ محرومی |
| پھر اُس کے بعد کوئی ابتلا نہیں آئی |
| ہتھیلیوں کے گلابوں سے خون رستا رہا |
| مگر وہ شوخیِ رنگِ حنا نہیں آئی |
| غیور دل سے نہ مانگی گئی مراد اداؔ |
| برسنے آپ ہی کالی گھٹا نہیں آئی |
| (۱۹۷۳ء) |
| گُلوں کو چُھو کے شمیمِ دعا نہیں آئی |
| کھلا ہواتھا دریچہ ، صبا نہیں آئی |
| ہوائے دشت! ابھی تو جنوں کا موسم تھا |
| کہاں تھے ہم ، تری آواز پا نہیں آئی |
| ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا |
| ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی |
| ہم اتنی دُور کہاں تھے کہ پھر پلٹ نہ سکیں |
| سوادِ شہر سے کوئی صدا نہیں آئی |
| سنا ہے دل بھی نگر تھا ، رسا بسا بھی تھا |
| جلا تو آنچ بھی ، اہلِ وفا نہیں آئی |
| نہ جانے قافلے گزرے کہ ہے قیام ابھی |
| ابھی چراغ بجھانے ہوا نہیں آئی |
| بس ایک بار منایا تھا جشنِ محرومی |
| پھر اُس کے بعد کوئی ابتلا نہیں آئی |
| ہتھیلیوں کے گلابوں سے خون رستا رہا |
| مگر وہ شوخیِ رنگِ حنا نہیں آئی |
| غیور دل سے نہ مانگی گئی مراد اداؔ |
| برسنے آپ ہی کالی گھٹا نہیں آئی |
| (۱۹۷۳ء) |
