| کسی خواب لگن کا نام نہ لو |
| اَن جانے گگن کا نام نہ لو |
| تم جی کی لگی کو کیا سمجھے |
| یہاں دھیان و چار بھی روگ بنے |
| اور جیون بھر کا سوگ بنے |
| یہ دھرتی اپنی دھرتی ہے |
| یہاں بیلا چمپا جوہی ہے |
| تم پھول چنو ، خوش کام رہو |
| بے آس جیو ، بے نام رہو |
| ہم گیانی دھیانی تم سے کہیں |
| پٹ من نگری کے بند رہیں |
| یہ من جو بھولا بھالا ہے |
| ظالم بھیدوں کی دُنیا ہے |
| اَن بوجھا ہے اَن جانا ہے |
| یہاں کون تمھارے سنگ چلے |
| یہاں کچی کونپل پاؤں تلے |
| اِس نگری جھاڑ ببول ملیں |
| برچھی کی اَنی پر پھول کھلیں |
| یہاں راگ جلے ، یہاں رنگ جلے |
| کہیں روپ جلے ، کہیں انگ جلے |
| جب آنکھ جلے تو ساکھ جلے |
| جہاں آگ بجھے وہاں راکھ جلے |
| اس راکھ کے ڈھیر ملے جیون |
| پھر روپ نگر درپن درپن |
| پھر نین کنول درشن درشن |
| من پنچھی اپنا آپ گگن |
| (۱۹۷۳ء) |
| کسی خواب لگن کا نام نہ لو |
| اَن جانے گگن کا نام نہ لو |
| تم جی کی لگی کو کیا سمجھے |
| یہاں دھیان و چار بھی روگ بنے |
| اور جیون بھر کا سوگ بنے |
| یہ دھرتی اپنی دھرتی ہے |
| یہاں بیلا چمپا جوہی ہے |
| تم پھول چنو ، خوش کام رہو |
| بے آس جیو ، بے نام رہو |
| ہم گیانی دھیانی تم سے کہیں |
| پٹ من نگری کے بند رہیں |
| یہ من جو بھولا بھالا ہے |
| ظالم بھیدوں کی دُنیا ہے |
| اَن بوجھا ہے اَن جانا ہے |
| یہاں کون تمھارے سنگ چلے |
| یہاں کچی کونپل پاؤں تلے |
| اِس نگری جھاڑ ببول ملیں |
| برچھی کی اَنی پر پھول کھلیں |
| یہاں راگ جلے ، یہاں رنگ جلے |
| کہیں روپ جلے ، کہیں انگ جلے |
| جب آنکھ جلے تو ساکھ جلے |
| جہاں آگ بجھے وہاں راکھ جلے |
| اس راکھ کے ڈھیر ملے جیون |
| پھر روپ نگر درپن درپن |
| پھر نین کنول درشن درشن |
| من پنچھی اپنا آپ گگن |
| (۱۹۷۳ء) |
