| ہے درد ابھی جادو اثر ٹھہرو ذرا |
| ویراں نہ ہو جائے یہ گھر ٹھہرو ذرا |
| سوچو ذرا شاید کوئی ہے منتظر |
| کیوں خواب ہوں نا معبتر ٹھہرو ذرا |
| شاید کوئی پہچان لے ، اپنا کہے |
| ہیں بے صدا آنکھیں مگر ٹھہرو ذرا |
| ممکن نہیں ہے بھولنا جس راہ کو |
| اُس راہ میں بارِ دگر ٹھہرو ذرا |
| تسکیں ملے ، احوال ِ جاں تم سے کہیں |
| ہے داستاں بھی مختصر ٹھہرو ذرا |
| دیکھو کہ اب ہیں کرچیاں بکھری ہوئی |
| کچھ لوگ تھے آئینہ گر ٹھہرو ذرا |
| بیگانگی کی آنچ میں جھلسے ہوئے |
| موسم بدل جائیں اگر ٹھہرو ذرا |
| مانا کہ یوں ہم بھی یہاں خوش تو نہیں |
| روشن مگر ہے ایک در ٹھہرو ذرا |
| بے چارگی کو چارہ گر بھی دیکھ لو |
| گزرو نہ تم یوں بے خبر ٹھہرو ذرا |
| منزل وہی ہے تم جسے منزل کہو |
| پابستۂ شام و سحر ، ٹھہرو ذرا |
| ہے درد ابھی جادو اثر ٹھہرو ذرا |
| ویراں نہ ہو جائے یہ گھر ٹھہرو ذرا |
| سوچو ذرا شاید کوئی ہے منتظر |
| کیوں خواب ہوں نا معبتر ٹھہرو ذرا |
| شاید کوئی پہچان لے ، اپنا کہے |
| ہیں بے صدا آنکھیں مگر ٹھہرو ذرا |
| ممکن نہیں ہے بھولنا جس راہ کو |
| اُس راہ میں بارِ دگر ٹھہرو ذرا |
| تسکیں ملے ، احوال ِ جاں تم سے کہیں |
| ہے داستاں بھی مختصر ٹھہرو ذرا |
| دیکھو کہ اب ہیں کرچیاں بکھری ہوئی |
| کچھ لوگ تھے آئینہ گر ٹھہرو ذرا |
| بیگانگی کی آنچ میں جھلسے ہوئے |
| موسم بدل جائیں اگر ٹھہرو ذرا |
| مانا کہ یوں ہم بھی یہاں خوش تو نہیں |
| روشن مگر ہے ایک در ٹھہرو ذرا |
| بے چارگی کو چارہ گر بھی دیکھ لو |
| گزرو نہ تم یوں بے خبر ٹھہرو ذرا |
| منزل وہی ہے تم جسے منزل کہو |
| پابستۂ شام و سحر ، ٹھہرو ذرا |
