| وہ سب بچّوں کو |
| ہر گھر میں مکیں ملتیں |
| اُجالا چاندنی سا اُن کے بالوں پر |
| اُجالا آیتوں سا اُن کی باتوں میں |
| وہ اب بھی |
| یاد تو بچّوں کو آتی ہیں |
| کسی گھر میں نہیں ملتیں |
| زمیں کے فاصلے |
| عہدِ زیاں میں بڑھ گئے ہیں |
| وہ سب بچّوں کو |
| ہر گھر میں مکیں ملتیں |
| اُجالا چاندنی سا اُن کے بالوں پر |
| اُجالا آیتوں سا اُن کی باتوں میں |
| وہ اب بھی |
| یاد تو بچّوں کو آتی ہیں |
| کسی گھر میں نہیں ملتیں |
| زمیں کے فاصلے |
| عہدِ زیاں میں بڑھ گئے ہیں |
