| اب خلقت مجھ سے پوچھے ہے تمھیں کیسے ساری بات ملی |
| کس اسم کا تم نے وِرد کیا ، جب تم کو ہٹیلی رات ملی |
| کیا دُھوپ بھری دوپہروں کی بے درد ہوائیں کچھ بھی نہ تھیں |
| تم اُجلی کچی کلیوں سی ، کیا صبح تمھیں سوغات ملی |
| وہی گجرے سچی چاہت کے ، وہی نکھرا رُوپ سہاگن کا |
| نا کچا رنگ تھا آنچل کا ، نا رستے میں برسات ملی |
| ملنا تو اپنے آپ سے بھی اس نگری میں آسان نہ تھا |
| تم کون سے در تک جا پہنچیں ، تمھیں راز ملے تمھیں گھات ملی |
| یہ ہنستی بستی تنہائی ، جسے شہر نجاتِ ذات کہیں |
| کس درد نے تم کو دکھلائی ، کس زخم سے کس کے ہات ملی |
| تم آئینوں کو دان کرو ، کبھی دیپ نیا ، کبھی رُوپ نیا |
| وہ سب آنکھوں میں ایک سی تھی جوتصویر حالات ملی |
| کہیں پھول بھی ہیں کشکول اداؔ کہیں کانٹا جی کو لگ جائے |
| وہ دینے والا جانے ہے یاں کس کو کیا اوقات ملی |
| اب خلقت مجھ سے پوچھے ہے تمھیں کیسے ساری بات ملی |
| کس اسم کا تم نے وِرد کیا ، جب تم کو ہٹیلی رات ملی |
| کیا دُھوپ بھری دوپہروں کی بے درد ہوائیں کچھ بھی نہ تھیں |
| تم اُجلی کچی کلیوں سی ، کیا صبح تمھیں سوغات ملی |
| وہی گجرے سچی چاہت کے ، وہی نکھرا رُوپ سہاگن کا |
| نا کچا رنگ تھا آنچل کا ، نا رستے میں برسات ملی |
| ملنا تو اپنے آپ سے بھی اس نگری میں آسان نہ تھا |
| تم کون سے در تک جا پہنچیں ، تمھیں راز ملے تمھیں گھات ملی |
| یہ ہنستی بستی تنہائی ، جسے شہر نجاتِ ذات کہیں |
| کس درد نے تم کو دکھلائی ، کس زخم سے کس کے ہات ملی |
| تم آئینوں کو دان کرو ، کبھی دیپ نیا ، کبھی رُوپ نیا |
| وہ سب آنکھوں میں ایک سی تھی جوتصویر حالات ملی |
| کہیں پھول بھی ہیں کشکول اداؔ کہیں کانٹا جی کو لگ جائے |
| وہ دینے والا جانے ہے یاں کس کو کیا اوقات ملی |
