| اچانک دل رُبا موسم کا دل آزار ہو جانا |
| دُعا آساں نہیں رہنا ، سخن دُشوار ہو جانا |
| تمھیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں |
| محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا |
| ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی |
| ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا |
| اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو |
| ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گلبار ہو جانا |
| ابھی کچھ اَن کہے الفاظ بھی ہیں کنجِ مژگاں میں |
| اگر تم اِس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا |
| ہوا تو ہم سفر ٹھہری ، سمجھ میں کس طرح آئے |
| ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا |
| ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا |
| ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا |
| ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے |
| کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا |
| اچانک دل رُبا موسم کا دل آزار ہو جانا |
| دُعا آساں نہیں رہنا ، سخن دُشوار ہو جانا |
| تمھیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں |
| محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا |
| ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی |
| ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا |
| اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو |
| ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گلبار ہو جانا |
| ابھی کچھ اَن کہے الفاظ بھی ہیں کنجِ مژگاں میں |
| اگر تم اِس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا |
| ہوا تو ہم سفر ٹھہری ، سمجھ میں کس طرح آئے |
| ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا |
| ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا |
| ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا |
| ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے |
| کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا |
