| کسی ایک لمحے نے مجھ سے کہا تھا |
| کہ یہ جو دل و جاں کے ہیں زخم سارے |
| یہ بھرتے نہیں ہیں |
| انھیں وقت کی آنچ میں |
| اور بھی کچھ نکھرنے تو دو |
| ابھی گہرے زخموں کو تم |
| پھول بننے، مہکنے تو دو |
| درد خوشبو ہے |
| نس نس میں اُترے تو پھر |
| منزلِ انکشاف آئے گی! |
| کسی ایک لمحے نے مجھ سے کہا تھا |
| کہ یہ جو دل و جاں کے ہیں زخم سارے |
| یہ بھرتے نہیں ہیں |
| انھیں وقت کی آنچ میں |
| اور بھی کچھ نکھرنے تو دو |
| ابھی گہرے زخموں کو تم |
| پھول بننے، مہکنے تو دو |
| درد خوشبو ہے |
| نس نس میں اُترے تو پھر |
| منزلِ انکشاف آئے گی! |
